ابنا: علی شمخانی نے آج تہران میں عراق کی مجلس اعلی اسلامی کے سربراہ سید عمار حکیم سے گفتگو میں کاظمین میں زائرین کے درمیاں تکفیری دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بااثر ملکوں کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کے بارے میں بلند بانگ دعووں کے باوجود اس لعنت کے مقابلے میں کسی کو پرعزم نہیں دیکھا جارہا ہے بلکہ عالمی سطح پر اس لعنت کے تخریبی اور تباہ کن اثرات ہی دیکھے جارہے ہیں۔ علی شمخانی نے کہا کہ دوہری پالیسیوں سے ماوراء ہوکر ہی دہشتگردی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور اسے ایک اسٹراٹیجی قرار پانا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے بااثر ملکوں کو متحدہ طور پر مشترکہ پروگرام کے تحت دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کرنا چاہیے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے کہا کہ ایران ہمیشہ ملت عراق کی حمایت کرتا رہےگا اور وہ عراق کو استحکام پہنچانے، امن قائم کرنے نیز ہمہ گير ترقی سے ہمکنار کرنے کے لئے تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔ اس ملاقات میں سید عمار حکیم نے دونوں ملکوں کے درمیاں تعاون کے روشن مستقبل کے بارے میں امید کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیاں جاری اقتصادی تعاون پر نظر ثانی اور نئے منصوبے بنائے جانے کی ضرورت ہے۔
.......
/169